ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / کیا مراٹھا ریزرویشن سے بدل گئی مہاراشٹر میں سیاسی حکمت عملی ؟شیوسینا ممبر اسمبلی نے مسلمانوں کے ریزرویشن کی وکالت کر ڈالی 

کیا مراٹھا ریزرویشن سے بدل گئی مہاراشٹر میں سیاسی حکمت عملی ؟شیوسینا ممبر اسمبلی نے مسلمانوں کے ریزرویشن کی وکالت کر ڈالی 

Fri, 30 Nov 2018 23:27:51    S.O. News Service

ممبئی:30/نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)مہاراشٹر میں مراٹھاؤں کو ریزرویشن کے بعد ایسا لگتا ہے کہ ریاست میں اس مسئلے کو لے کر سیاسی گہماگہمی تیز ہو رہی ہے۔ شیوسینا ممبر اسمبلی سنیل پربھو نے کہا ہے کہ جو پسماندہ طبقہ ہے ، چاہے وہ مسلم کیوں نہ ہوں، انہیں ریزرویشن دینا چاہئے، ان کا کام ہو جانا چاہئے، ان کو بھی انصاف ملنا چاہئے ۔ علاوہ ازیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ’’ شیوسینا ہمیشہ ناانصافی کے خلاف لڑنے والی پارٹی ہے‘‘۔واضح ہو کہ شیوسینا ممبر اسمبلی کی جانب سے آنے والا بیان ’فقیدالمثال ‘ اور انوکھا ہے ؛کیونکہ پارٹی ہمیشہ ہندوتو کی سیاست کے لئے بدنام رہی ہے ۔ غور طلب ہے کہ مہاراشٹر میں مراٹھا ریزرویشن کو لے کر بی جے پی نے داؤ چل دیا ہے جس کی وجہ ریاست میں ذات پات کی سیاسی چال چلی جارہی ہے ۔ ریاست میں مراٹھاؤں کی اچھی آبادی ہے اور کسان تحریک سے ناراض مراٹھا بی جے پی کے حق میں متحرک ہو سکتے ہیں۔ وہیں اسدالدین اویسی کی پارٹی نے بھی اعلان کیا ہے وہ مسلمانوں کے ریزرویشن کو لے کر ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ وہیں او بی سی کی ایک تنظیم نے ریاستی حکومت کے فیصلے کے خلاف درخواست دینے کو کہا ہے۔ دوسری طرف وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس نے کہا ہے کہ مسلمانوں کی جن برادریوں کو لگتا ہے کہ انہیں ریزرویشن ملنا چاہئے انہیں ریاستی پسماندہ کمیشن سے رابطہ کرنا چاہیے۔ کمیشن کی کسی بھی سفارش کو حکومتیں ماننے کے لئے پابند ہو گی۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے جمعہ کو اسمبلی میں بتایا کہ جن لوگوں کا خیال ہے کہ مسلمانوں میں ایسی برادری ہیں جنہیں ریزرویشن ملنا چاہئے تو وہ ریاستی پسماندہ طبقے کمیشن سے رابطہ کرکے اس سروے کے لیے درخواست کر سکتے ہیں۔ فڑنویس نے اسمبلی میں کہا کہ ریزرویشن ’’برادری ‘‘ کی بنیاد پر دیا جاتا ہے اور مسلمانوں اور عیسائیوں میں کوئی ذات پات کا نظام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں کچھ پسماندہ برادریاں ہیں کیونکہ انہوں نے ہندوازم سے حلقہ بگوش اسلام کے بعد بھی اپنی برادری برقرار رکھی تھی۔ 


Share: